تِری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھا
کہیں زندگی کی بارش کہیں قتل عام دیکھا
میری عرضِ شوق پڑھ لیں یہ کہاں انہیں گوارا
وہیں چاک کر دیا خط جہاں میرا نام دیکھا
بڑی منتوں سے آ کر وہ مجھے منا رہے ہیں
اے شکیلؔ روح پرور تِری بے خودی کے نغمے
مگر آج تک نہ ہم نے تِرے لب پہ جام دیکھا
شکیل بدایونی
No comments:
Post a Comment