Thursday, 5 January 2017

تیری باتوں میں زندگی کا رس

دید کا تمنائی

تیری باتوں میں زندگی کا رس
تیری آواز میں ہے رعنائی
فون پر بولتی ہوئی محبوب
تو ابھی سامنے نہیں آئی
دل تجھے دیکھنے کو کہتا ہے
دل تِری دید کا تمنائی
اک طرف عاشقی سے ہم مجبور
اک طرف ہم کو خوفِ رسوائی
صبر کا حوصلہ نہیں باقی
سن بے کار، جان زیبائی
ہم نے مانا، تُو خوبصورت ہے
دیکھ ہم کو تیری ضرورت ہے

ابن انشا

No comments:

Post a Comment