خواب ہی خواب تھا
خواب ہی خواب تھا تصویریں ہی تصویریں تھی
یہ تِرا لطف، تِرے مہر و محبت، لیکن
تیرے جانے سے یہ جینے کے بہانے بھی چلے
تجھ کو ہونا تھا کسی روز تو رخصت، لیکن
اپنا جینا بھی کوئی دن ہے ہمیشہ کا نہیں
پھر وہی دشت ہے دیوانگیِ دل بھی وہی
پھر وہی شام وہی پچھلے پہر کا رونا
اب تِری دید نہ وہ دور کی باتیں ہوں گی
ابن انشا
No comments:
Post a Comment