Thursday, 5 January 2017

مانگی ہے اس دیار میں دونوں جہاں کی بھیک

مانگی ہے اس دیار میں دونوں جہاں کی بھیک
لیکن ملی ہمیں دلِ نا کامراں کی بھیک
ایسے بھی راہِ زیست میں آئے کئی مقام
مانگی ہے پائے شوق نے عزمِ جواں کی بھیک
بے نُور ہو گئی ہیں ستاروں کی بستیاں
ساقی عطا ہو بادۂ شعلہ فشاں کی بھیک
اب اور کیا تغیرِ تقدیر چاہیۓ
جھولی میں ڈال دی تِرے نام و نشاں کی بھیک
خود بِک گئے حیات کی نیلام گاہ میں
وہ بانٹتے تھے جو کبھی کون و مکاں کی بھیک
دو چار پتیوں پہ ہے رنجش بہار سے
سائل نے مانگ لی ہے کہاں گلستاں کی بھیک
اللہ، ان کے نقشِ کفِ پا کی خیر ہو
ذروں کو دے گئے جو مہ و کہکشاں کی بھیک
ساغؔر خوشا کہ گوہرِ امید پا لیا
قسمت سے ہات آئی غمِ دوستاں کی بھیک

ساغر صدیقی

No comments:

Post a Comment