Thursday, 5 January 2017

آئینے پر کبھی کتاب میں ہیں

آئینے پر کبھی کتاب میں ہیں
اس کی آنکھیں عجب عذاب میں ہیں
تھکتے پھرتے ہیں دھوپ میں بچے
تتلیاں سایۂ گلاب میں ہیں
ایک کچے گھڑے کی جرأت پر
کتنی طغیانیاں چناب میں ہیں
وہ ابھی تک ہے رو برو اپنے
ہم ابھی تک حصارِ خواب میں ہیں
اس کی عادت ہے روٹھنا محسؔن
لوگ بے وجہ اضطراب میں ہیں

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment