آئینے پر کبھی کتاب میں ہیں
اس کی آنکھیں عجب عذاب میں ہیں
تھکتے پھرتے ہیں دھوپ میں بچے
تتلیاں سایۂ گلاب میں ہیں
ایک کچے گھڑے کی جرأت پر
وہ ابھی تک ہے رو برو اپنے
ہم ابھی تک حصارِ خواب میں ہیں
اس کی عادت ہے روٹھنا محسؔن
لوگ بے وجہ اضطراب میں ہیں
محسن نقوی
No comments:
Post a Comment