حسن مجبورِ جفا ہے شاید
یہ بھی اک طرزِ ادا ہے شاید
ایک غمناک سی آتی ہے صدا
کوئی دل ٹوٹ رہا ہے شاید
خود فراموش ہوا جاتا ہوں
ان حسیں چاند ستاروں میں کہیں
تیرا نقشِ کفِ پا ہے شاید
ایک دنیا سے ہوئے بے گانے
تجھ سے ملنے کا صِلا ہے شاید
ہر گھڑی اشک فشاں ہیں آنکھیں
یہی انجامِ وفا ہے شاید
ان لبوں پر یہ تبسؔم کی ضیا
شوخئ بخت رسا ہے شاید
صوفی تبسم
No comments:
Post a Comment