دریا دلی کہوں تِری کیا ساقیا، کہ بس
پیمانہ اپنے منہ سے یہ خود بول اٹھا کہ بس
ذکرِ شبِ الم پہ کلیجہ پکڑ لیا
کچھ اور بھی سنو گے مِرا ماجرا کہ بس
اللہ جانے غیر سے کیا گفتگو ہوئی
گو سنگدل تھے وہ مگر آنسو نکل پڑے
اس بے کسی سے میرا جنازہ اٹھا کہ بس
شب بھر تِرے مریض کا عالم یہی رہا
نبضوں پہ جس نے ہاتھ رکھا کہہ دیا کہ بس
دن ہو کہ رات رونے سے مطلب ہمیں قمرؔ
دل دے کے ان کو ایسا نتیجہ ملا کہ بس
استاد قمر جلالوی
No comments:
Post a Comment