Wednesday, 4 January 2017

جاگ کے میرے ساتھ سمندر راتیں کرتا ہے

جاگ کے میرے ساتھ سمندر راتیں کرتا ہے
جب سب لوگ چلے جائیں تو باتیں کرتا ہے
شام کو دیر سے پہنچوں تو لگتا ہے خفا مجھ سے
مجھ سے بہت برہم ہو، ایسی گھاتیں کرتا ہے
میرے سوا شاید اس کا بھی کوئی دوست نہیں
میری اپنی جانے کیا کیا باتیں کرتا ہے
دل غم سے بوجھل ہو تو دیکھو پھر چھیڑیں اس کی
چھینٹے منہ پہ مار کے کیا برساتیں کرتا ہے
اور بھی گہری ہو جاتی ہے اس کی سرگوشی
مجھ سے کسی کی آنکھوں کی جب باتیں کرتا ہے
مجھ کو موتیوں سے کیا لینا زیؔب سمندر بھی
جانے کیا مِرے اشکوں کی سوغاتیں کرتا ہے

زیب غوری

No comments:

Post a Comment