دل سے دل کو ملائے جاتے ہیں
ہم انہیں آزمائے جاتے ہیں
ہوش رخصت ہوئے کبھی کے مگر
آنکھ سے وہ پلائے جاتے ہیں
ان کی ساقی گری،۔ معاذ اللہ
یہ جمالِ جبیں، یہ قشقۂ سرخ
روح و دل تھرتھرائے جاتے ہیں
عشق محدود و حسن لا محدود
ہم سے آگے وہ پائے جاتے ہیں
شک نہ کر میری خشک آنکھوں پر
یوں بھی آنسو بہائے جاتے ہیں
پردۂ شعر میں انہیں ساغرؔ
دل کے قصے سنائے جاتے ہیں
ﺳﺎﻏﺮ ﻧﻈﺎﻣﯽ
No comments:
Post a Comment