Wednesday, 4 January 2017

دل سے دل کو ملائے جاتے ہیں

دل سے دل کو ملائے جاتے ہیں
ہم انہیں آزمائے جاتے ہیں
ہوش رخصت ہوئے کبھی کے مگر
آنکھ سے وہ پلائے جاتے ہیں
ان کی ساقی گری،۔ معاذ اللہ
چپکے چپکے پلائے جاتے ہیں
یہ جمالِ جبیں، یہ قشقۂ سرخ
روح و دل تھرتھرائے جاتے ہیں
عشق محدود و حسن لا محدود
ہم سے آگے وہ پائے جاتے ہیں
شک نہ کر میری خشک آنکھوں پر
یوں بھی آنسو بہائے جاتے ہیں
پردۂ شعر میں انہیں ساغرؔ
دل کے قصے سنائے جاتے ہیں

ﺳﺎﻏﺮ ﻧﻈﺎﻣﯽ

No comments:

Post a Comment