Saturday, 18 July 2020

جب وصل ہوا تو کچھ بھی نہیں

ہستی ہے جدائی سے اس کی جب وصل ہوا تو کچھ بھی نہیں 
دریا میں نہ تھا تو قطرہ تھا دریا میں ملا تو کچھ بھی نہیں
اک شمع جلی تو محفل میں ہر سمت اجالا پھیل گیا 
قانون یہی ہے فطرت کا پروانہ جلا تو کچھ بھی نہیں
سیلاب میں تنکے رقصاں تھے موجوں سے سفینے لرزاں تھے 
اک دریا تھا سو طوفاں تھے دریا نہ رہا تو کچھ بھی نہیں
اصلیت تھی یا دھوکہ تھا،۔ اک فتنۂ رنگیں برپا تھا 
سو جلوے تھے اک پردہ تھا پردہ نہ رہا تو کچھ بھی نہیں
طوفاں بھی تھا آندھی بھی تھی باراں بھی تھا بجلی بھی تھی 
آئی جو گھٹا تو سب کچھ تھا برسی جو گھٹا تو کچھ بھی نہیں
پھولوں سے چمن آباد بھی تھے دام اپنا لیے صیاد بھی تھے 
سب کچھ تھا جمیل اس گلشن میں بدلی جو ہوا تو کچھ بھی 

جمیل مظہری

No comments:

Post a Comment