کیا ہنسیں اب ہنسی نہیں نام تک
صبح بیٹھے تو روتے رہے شام تک
پہلے اٹھتی تھیں ہم پر فقط انگلیاں
اب تو سنتے ہیں گلیوں میں دشنام تک
ہر طرف ان کی زلفوں کے ہیں تذکرے
فاصلے ہیں بہت، مرحلے ہیں بہت
تشنگی سے خم شیشہ و جام تھا تک
اب بھی کوئی وفادار کہتا ہمیں
سہ گئے بے وفائی کا الزام تک
کر نہ سکئے محبت تو مر جائیے
زندگی کام کی ہے اسی کام تک
کلیم عاجز
No comments:
Post a Comment