Saturday, 18 July 2020

کیا ہنسیں اب ہنسی نہیں نام تک

کیا ہنسیں اب ہنسی نہیں نام تک
صبح بیٹھے تو روتے رہے شام تک
پہلے اٹھتی تھیں ہم پر فقط انگلیاں
اب تو سنتے ہیں گلیوں میں دشنام تک
ہر طرف ان کی زلفوں کے ہیں تذکرے
شام سے صبح تک، ۔صبح سے شام تک
فاصلے ہیں بہت، مرحلے ہیں بہت
تشنگی سے خم شیشہ و جام تھا تک
اب بھی کوئی وفادار کہتا ہمیں
سہ گئے بے وفائی کا الزام تک
کر نہ سکئے محبت تو مر جائیے
زندگی کام کی ہے اسی کام تک

کلیم عاجز

No comments:

Post a Comment