گھر کسی کا بھی ہو "جلتا" نہیں دیکھا جاتا
ہم سے چپ رہ کے تماشا نہیں دیکھا جاتا
تیری عظمت ہے تُو چاہے تو سمندر دے دے
مانگنے والے کا "کاسہ" نہیں دیکھا جاتا
جب سے صحرا کا سفر کاٹ کے گھر لوٹا ہوں
یہ عبادت ہے، عبادت میں سیاست کیسی
اس میں "کعبہ" یا "کلیسا" نہیں دیکھا جاتا
میرے لہجے پہ نہ جا، قول کا مفہوم سمجھ
بات "سچی" ہو تو "لہجہ" نہیں دیکھا جاتا
دل میں اک ہُوک سی اٹھتی ہے رلا دیتی ہے
ہم سے "روتا" ہوا "بچہ" نہیں دیکھا جاتا
لوگ مینار کے "گنبد" پہ نظر رکھتے ہیں
اس کی "بنیاد" کا "نقشہ" نہیں دیکھا جاتا
عکس ابھرے گا نفس گرد ہٹا دے پہلے
دھندلے آئینے میں چہرہ نہیں دیکھا جاتا
نفس انبالوی
No comments:
Post a Comment