ہر نظر "حیران" ہے، ہر آرزو رونے کو ہے
شہر میں لگتا ہے کوئی حادثہ ہونے کو ہے
گردشِ دوراں میں گھٹ کر رہ گئی ہے زندگی
رفتہ رفتہ ہر "دعا"، اپنا "اثر" کھونے کو ہے
کچھ نہیں "کہتا" کوئی "بستی" میں، لیکن چیخ کر
جو گھروندے ساحلوں کی "ریت" پر آباد تھے
موج دریا ان کا اب نام و نشاں دھونے کو ہے
ہم سے پوچھو ہم نے دیکھا ہے وہ اک سایہ وہاں
جو زمیں میں خنجروں کی فصل پھر بونے کو ہے
لو" پھر "آ" پہنچے "تماشائی"، تماشا دیکھنے"
اک مسیحا پھر صلیب اپنی ہی خود ڈھونے کو ہے
اس جنونِ عشق کا حاصل بس اتنا ہے نفس
ہم یہاں بیدار ہیں، سارا جہاں سونے کو ہے
نفس انبالوی
No comments:
Post a Comment