Wednesday, 15 July 2020

الجھی تھی زلف اس نے سنوارا سنور گئی

الجھی تھی زلف اس نے سنوارا سنور گئی
شانے کو کیا خبر یہ بلا کس کے سر گئی
آئینے بھی بنائے تو دیکھا نہ اپنا منہ
اب تک نہ خد و خال پہ اپنے نظر گئی
یوں تو رواق دولت و دیں بھی تھے سایہ دار
لیکن تھکن غریب کی سوئے شجر گئی
اہلِ نظر نہ مجھ پہ ہنسیں میری یہ نظر
کچھ تو برونِ حلقۂ حد نظر گئی
رستے میں کیا دھرا تھا کہ رکتی کہیں نگاہ
دیکھا تمہیں تو عمرِ گریزاں ٹھہر گئی
اونچی ہوئی فغاں تو گئی آسماں کے پار
اترا جو عرش سے تو دلوں میں اتر گئی
منزل تو اپنی حد نظر ہی پہ تھی جمیلؔ
پہنچے وہاں تو اور کچھ آگے نظر گئی

جمیل مظہری

No comments:

Post a Comment