مجھے ڈرانا آسان نہیں
میں ہمیشہ ہریالی کی طرف دیکھتی ہوں
میری نظر خشکابوں میں پانی بھر دیتی ہے اور بیابانوں میں درخت لگا دیتی ہے
اجاڑ زمینوں سے ابلتے چشمے اور سنگلاخ چٹانوں سے بہتے جھرنے میرا ایمان ہے
رات کی کالک چیرتی لکیر، میری سفیر ہے
مجھے آنسو میٹھے لگتے ہیں اور مسکراہٹ نمکین
مجھے ہرانا آسان نہیں
زمینی خداؤں کے لیے میں آہنی دیوار ہوں
اور آسمانی خدا اکثر مجھ سے مشاورت پر مجبور ہو جاتا ہے
مجھے گرانا آسان نہیں
میرا ماتم زلزلے اور لاوے کی طرح
خون میں لتھڑی
ان زمینوں کو مسمار کرنے کے لیے ہے
جن پر زمینی خدا ناز کرتے ہیں
تمہیں مجھے میرے قہقہوں سے ناپنا ہو گا
جو میں لکھی گئی تقدیر پر روز لگاتی ہوں
قندیل بدر
No comments:
Post a Comment