Wednesday, 15 July 2020

مجھے ڈرانا آسان نہیں

مجھے ڈرانا آسان نہیں

میں ہمیشہ ہریالی کی طرف دیکھتی ہوں
میری نظر خشکابوں میں پانی بھر دیتی ہے اور بیابانوں میں درخت لگا دیتی ہے
اجاڑ زمینوں سے ابلتے چشمے اور سنگلاخ چٹانوں سے بہتے جھرنے میرا ایمان ہے
رات کی کالک چیرتی لکیر، میری سفیر ہے
مجھے آنسو میٹھے لگتے ہیں اور مسکراہٹ نمکین

مجھے ہرانا آسان نہیں
زمینی خداؤں کے لیے میں آہنی دیوار ہوں 
اور آسمانی خدا اکثر مجھ سے مشاورت پر مجبور ہو جاتا ہے
مجھے گرانا آسان نہیں
میرا ماتم زلزلے اور لاوے کی طرح
خون میں لتھڑی
ان زمینوں کو مسمار کرنے کے لیے ہے
جن پر زمینی خدا ناز کرتے ہیں
تمہیں مجھے میرے قہقہوں سے ناپنا ہو گا
جو میں لکھی گئی تقدیر پر روز لگاتی ہوں

قندیل بدر

No comments:

Post a Comment