گیان دھیان
میری پوریں غیبی سازینے کے تاروں کو چھیڑتی ہیں
تو رنگ و نور کی گٹھڑیاں زمین پر گرنے لگتی ہیں
چاند اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہے
اس کا عکس جب آسمان سے ٹکرا کر جھیل میں منعکس ہوتا ہے
تو ہوائیں کتھک کرنے لگتی ہیں
جب تھک جاتی ہیں
تو قدیم پیڑ دیوتا کے قدموں سے لپٹ جاتے ہیں
رات رینگتے رینگتے میری آنکھوں تک آ جاتی ہے
گیان دھیان نیند کی چادر اوڑھ لیتا ہے
غیبی سازینے خاموش ہو جاتے ہیں
فرشتے اونگھنے لگتے ہیں
کائنات آخری ہچکی کا انتظار کرنے لگتی ہے
قندیل بدر
No comments:
Post a Comment