Wednesday, 15 July 2020

بھنور سے کوئی نکلا

آئینے سے مکالمہ

بھنور سے کوئی نکلا
اس نگری کی حد سے باہر
پاؤں کسی کے دیکھے تم نے
دیکھا تم نے روپ کسی کا
جھلمل دیکھی بینائی کی
جوت خیال کی دیکھی تم نے

پالکی میں کوئی سپنا ہو گا
دیکھا نہیں تو سنا تو ہوگا
ساز سنا ہو گا جھرنے کا 
کوک سنی ہو گی کوئل کی
وہم کوئی تو گزرا ہو گا
گیت کی لَے کا، وقت کی نَے کا
سنا نہیں تو چھوا تو ہو گا
عکس کسی کا، جسم کسی کا
جسم نہیں تو طلسم کسی کا
یاد ہے تم کو اسم کسی کا
بھید بھنور سے کوئی نکلا
نہیں تو تم کیسے نکلو گے؟

دانیال طریر

No comments:

Post a Comment