آئینے سے مکالمہ
بھنور سے کوئی نکلا
اس نگری کی حد سے باہر
پاؤں کسی کے دیکھے تم نے
دیکھا تم نے روپ کسی کا
جھلمل دیکھی بینائی کی
جوت خیال کی دیکھی تم نے
پالکی میں کوئی سپنا ہو گا
دیکھا نہیں تو سنا تو ہوگا
ساز سنا ہو گا جھرنے کا
کوک سنی ہو گی کوئل کی
وہم کوئی تو گزرا ہو گا
گیت کی لَے کا، وقت کی نَے کا
سنا نہیں تو چھوا تو ہو گا
عکس کسی کا، جسم کسی کا
جسم نہیں تو طلسم کسی کا
یاد ہے تم کو اسم کسی کا
بھید بھنور سے کوئی نکلا
نہیں تو تم کیسے نکلو گے؟
دانیال طریر
No comments:
Post a Comment