ہو رہا ہے تجربہ "تنہائی" کے ماروں کے بیچ
کیسے ہوتے ہیں اکیلے ہم بہت ساروں کے بیچ
ہاں کرونا کی مگر اک بات اچھی ہے ضرور
رابطے ہونے لگے بچھڑے ہوئے یاروں کے بیچ
کوئی "پتہ" بھی "ہلے" تو چیخ پڑتی ہے فضا
اب کہاں وہ انتظارِ جانِ جاناں کی تڑپ
بند ہے اختر شماری شب کے بیداروں کے بیچ
حسن کو جب دیکھنے والا نہ ہو کوئی تو پھر
حسن کیوں کاجل لگائے نین کجراروں کے بیچ
"سچ کہا تھا میر جی نے "آئینہ خانہ ہے دہر
دیکھ لو اب منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ
روحی دنیا کے گلی کوچوں میں رقصاں ہے اجل
چاندی گم سم کھڑی ہے چاند اور تاروں کے بیچ
ریحانہ روحی
No comments:
Post a Comment