میرے در پر کھڑے پکارے ہیں
ہم کسی کے نہیں تمہارے ہیں
عشق کے ہیں گواہ میرے پاس
آدمی، چاند اور ستارے ہیں
مانتا ہوں "بغیر" تیرے بس
دنیا "چالاک" ہے بڑی یارو
جھوٹے اکثر یہاں سہارے ہیں
نظر آئے "کلیم" ہیں شاید
دور دریا کے دو کنارے ہیں
محمد کلیم
No comments:
Post a Comment