Monday, 13 July 2020

میرے در پر کھڑے پکارے ہیں

میرے در پر کھڑے پکارے ہیں
ہم کسی کے نہیں تمہارے ہیں
عشق کے ہیں گواہ میرے پاس 
آدمی، چاند اور ستارے ہیں
مانتا ہوں "بغیر" تیرے بس 
زندگی میں بہت خسارے ہیں
دنیا "چالاک" ہے بڑی یارو 
جھوٹے اکثر یہاں سہارے ہیں
نظر آئے "کلیم" ہیں شاید 
دور دریا کے دو کنارے ہیں

محمد کلیم

No comments:

Post a Comment