Wednesday, 15 July 2020

مرا شک آسمانوں تک پہنچنا چاہتا ہے

پلٹ کر 'داستانوں' تک پہنچنا چاہتا ہے
زمانہ، کن زمانوں تک پہنچنا چاہتا ہے
جنونی ہو گیا ہے میرے دریاؤں کا پانی
پہاڑوں کے گھرانوں تک پہنچنا چاہتا ہے
گزرنا چاہتی ہے بادلوں سے میری حیرت
مِرا شک آسمانوں تک پہنچنا چاہتا ہے
پریشاں ہو گئی ہے 'بادشاہی'، ایک نعرہ
سدا کے بے زبانوں تک پہنچنا چاہتا ہے
نجانے کیا ہوا ہے میرے دل کو پر لگا کر
فرشتوں کی اڑانوں تک پہنچنا چاہتا ہے
کثافت ختم کر کے جسم کی، مٹی کا پتلا
خدا کے کارخانوں تک پہنچنا چاہتا ہے
نِگل کر آسمانوں کے ستارے اب وہ اژدر
زمینوں کے خزانوں تک پہنچنا چاہتا ہے
جہاں پیڑوں کو آتا ہو ہمیشہ سبز رہنا
پرندہ ان 'جہانوں' تک پہنچنا چاہتا ہے
بشر کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اب درندے
گھنا جنگل 'مکانوں' تک پہنچنا چاہتا ہے

دانیال طریر

No comments:

Post a Comment