سادہ دلی کو چھوڑ کے "ناٹک" سے کام لے
جب کوئی چپ نہ سمجھے تو بک بک سے کام لے
رشتے لہو بھی دے کے اگر نبھ نہیں رہے
پھر اعتبار چھوڑ دے اور شک سے کام لے
مرضی ہے حسنِ ناز کی جو بھی کرے جناب
چاہے وہ آنکھ چاہے وہ ناوک سے کام لے
جذبات میں نہ آ کہ بگڑتے ہیں اس سے کام
یہ دل کا ہے معاملہ ٹھنڈک سے کام لے
پیارے سنی سنائی پہ اندھا یقین کیوں
لازم ہے کچھ شعور کی عینک سے کام لے
یہ بادشاہی عمر ہے کھیلن کے واسطے
ظالم ہے وہ جو پھول سے بالک سے کام لے
اس رات کے اندھیرے میں سورج نہ آئے گا
تحسین اٹھ کے مٹی کے دیپک سے کام لے
یونس تحسین
No comments:
Post a Comment