سانس اٹکی ہو تو رشتے نہیں دیکھے جاتے
موت کی گود میں سپنے نہیں دیکھے جاتے
چھوڑ "تسبیح" یہ "تلوار" اٹھا "نعرہ" لگا
حالتِ جنگ میں سجدے نہیں دیکھے جاتے
رمز یہ حضرتِ شبیر کے سجدے سے کھلی
بات جب حق ہو تو نیزے نہیں دیکھے جاتے
جب کوئی شاہ کسی ملک پہ حملہ کر دے
پھر وہاں بوڑھے یا بچے نہیں دیکھے جاتے
اک مقام ایسا بھی آتا ہے سرِ دشتِ جنوں
جس جگہ پاؤں کے چھالے نہیں دیکھے جاتے
ناز اپنے ہی اٹھاتے ہیں بھلے جیسے ہوں
محفلِ غیر میں نخرے نہیں دیکھے جاتے
کام کی بات اشارے میں کہی ہے، سن لے
گھر بسانا ہو تو "میکے" نہیں دیکھے جاتے
چشمِ مفلس میں سوا اشک نہیں ہے کچھ بھی
ہاں مگر خواب، جو پورے نہیں دیکھے جاتے
ایک دو چہرے ہی ہوتے ہیں جہاں میں ایسے
جو کسی حال میں روتے نہیں دیکھے جاتے
یہ رہِ عشق ہے اور عشق میں یونس تحسین
گردنیں توڑتے پھندے نہیں دیکھے جاتے
یونس تحسین
No comments:
Post a Comment