اپنا کسی گروپ سے یارا نہیں ہے بھائی
سو شہر میں کوئی بھی ہمارا نہیں ہے بھائی
"اب سیکھنی پڑے گی ہمیں بھی "منافقت
اس کے بنا کہیں بھی گزارا نہیں ہے بھائی
پھوکٹ میں کوئی قرض بھی دیتا نہیں ہے اب
ہر شخص کو ہے اپنی ہی اپنی پڑی ہوئی
اپنا بھی اب تو اپنا سہارا نہیں ہے بھائی
ہر کامیابی کے لیے لازم ہے ایک بھائی
بھائی بغیر اور کوئی چارا نہیں ہے بھائی
مقصود ہے بس اپنی حکایات خونچکاں
اس کا کسی کی سمت اشارا نہیں ہے بھائی
ریحانہ روحی
No comments:
Post a Comment