میں نے تمہیں چلنا سکھایا تھا
ابھی جیسے یہ کل کی بات لگتی ہے
کہ تم چھوٹے سے گُڈے تھے
تمہیں چلنا نہیں آتا تھا
گھٹنوں گھٹنوں چلتے تھے
تو اس چلنے کی کوشش میں
تمہارے ننھے منے پاؤں اکثر ڈگمگا جاتے
قدم بھی لڑکھڑا جاتے
تو میں انگلی پکڑ کر پھر تمہیں چلنا سکھاتی
پھر تمہیں ابو نے اک واکر لا دیا
اب تم اڑے پھرتے کسی کے ہاتھ کب آتے
پھر اک دن صبح جب سو کر اٹھی تو میں نے دیکھا
کہ تم بنا واکر بنا کوئی سہارے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو
اور چل رہے ہو
پھر تم یوں ہی چلتے رہے چلتے رہے چلتے رہے
دن مہینے اور مہینے سالوں میں ڈھلتے رہے
تم یوں ہی چلتے رہے
اور چلتے چلتے ایک دن
آخر اتنی دور جا نکلے
مِری آنکھوں سے اوجھل ہو گئے
میں نے تمہیں چلنا سکھایا تھا
ریحانہ روحی
No comments:
Post a Comment