Thursday, 23 July 2020

جگنو ہوں کہ شعلہ ہوں ستارا کہ ہوا ہوں

 جگنو ہوں کہ شعلہ ہوں ستارا کہ ہوا ہوں

جو کچھ ہوں غمِ ہجر میں مصروفِ عزا ہوں

سنتا ہی نہیں کوئی مِرے درد کے نوحے

آواز کی "دنیا" میں بہت "چیخ" رہا ہوں

اب کون مِری ذات کے ٹکڑوں کو سمیٹے

احساس کے ہاتھوں سے بہت ٹوٹ چکا ہوں

سر میرا تو اس وقت بھی نیزے پہ سجا ہے

میں اب بھی وہیں کرب کے صحرا میں پڑا ہوں

کب تک یونہی اشکوں کہ سہارے پہ جئے گا

اے ہجر مجھے پی جا کہ میں آبِ بقا ہوں

اک تو کہ مِری سوچ سے بھی خوفزدہ ہے

اک میں کہ فقط تیرے تصور میں جیا ہوں

تحسین اسے "بول" مِری "قدر" کیا کر

اب وقت کے دامن میں فقط میں ہی بچا ہوں


یونس تحسین

No comments:

Post a Comment