دیوانہ بنایا ہے تو رستہ بھی ہمیں دے
وحشت کے لیے چھوٹی سی دنیا بھی ہمیں دے
اک شخص ہمیں دے جو محبت کرے ہم سے
پھر اس کے بچھڑ جانے کا صدمہ بھی ہمیں دے
ہم پیاسے لٹا آئے ہیں گھر بار کہیں دور
اٹھ! پانی پلا ہم کو، دِلاسا بھی ہمیں دے
قاتل نے عزداروں کا بہروپ لیا ہے
اب اس پہ یہ لازم ہے، وہ پُرسا بھی ہمیں دے
یہ کیا کہ خَجل ہوتے رہیں درد کے مارے
کچھ دیر ذرا یار! سہارا بھی ہمیں دے
ذہنوں میں تجسس کی عجب آگ ہے تحسین
خود آنکھ یہ کہتی ہے تماشا بھی ہمیں دے
یونس تحسین
No comments:
Post a Comment