میرا تجھ سے سوال ہے مرشد
عشق کیا اک خیال ہے مرشد
زندگی کا اثاثہ میری بس
ایک تیرا جمال ہے مرشد
ذات اپنی فنا کی ہم نے، اور
زندگی ایک روپ کتنے ہیں
تیرا جادو کمال ہے مرشد
سوچتا ہوں کلیم میں اکثر
میری کتنی مجال ہے مرشد
محمد کلیم
No comments:
Post a Comment