Thursday, 23 July 2020

میرا تجھ سے سوال ہے مرشد

میرا تجھ سے سوال ہے مرشد
عشق کیا اک خیال ہے مرشد
زندگی  کا اثاثہ میری بس 
ایک تیرا جمال ہے مرشد
ذات اپنی فنا کی ہم نے، اور 
ڈالی  ہر سو دھمال ہے مرشد
زندگی ایک روپ کتنے ہیں
تیرا جادو کمال ہے مرشد 
سوچتا ہوں کلیم میں اکثر 
میری کتنی مجال ہے مرشد

محمد کلیم

No comments:

Post a Comment