لطف کا تیرے ملا ہے وہ سہارا ہم کو
اب تو ہر درد ہے کچھ اور گوارا ہم کو
تمکنت "شعلہ فشاں" اور تبسم گل بار
عشوہ ہائے بتِ طناز نے مارا ہم کو
تُو نے جب سے اِسے شایانِ کرم سمجھا ہے
ہر نظر شوق میں کرتی ہے ہزاروں سجدے
سامنے ان کے کہاں شکوے کا یارا ہم کو
اپنا یہ شعلۂ بے باک کہاں لے جائیں؟
خس و خاشاک میں کرنا ہے گزارا ہم کو
جب ہجومِ غمِ دنیا سے ہوئیں بند آنکھیں
ناز سے تیری "تجلی" نے "پکارا" ہم کو
چشمِ ساحل کو بھی تم موجۂ طوفاں سمجھے
ہم وہ سرکش کہ ہے طوفاں میں کنارا ہم کو
اپنے ساقی کے ہر اک جام میں ہے آبِ حیات
نگہِ "لطف" کا کافی ہے "سہارا" ہم کو
آل احمد سرور
No comments:
Post a Comment