Thursday, 16 July 2020

لطف کا تیرے ملا ہے وہ سہارا ہم کو

لطف کا تیرے ملا ہے وہ سہارا ہم کو
اب تو ہر درد ہے کچھ اور گوارا ہم کو
تمکنت "شعلہ فشاں" اور تبسم گل بار
عشوہ ہائے بتِ طناز نے مارا ہم کو
تُو نے جب سے اِسے شایانِ کرم سمجھا ہے
اور بھی اپنا جنوں ہو گیا پیارا ہم کو
ہر نظر شوق میں کرتی ہے ہزاروں سجدے
سامنے ان کے کہاں شکوے کا یارا ہم کو
اپنا یہ شعلۂ بے باک کہاں لے جائیں؟
خس و خاشاک میں کرنا ہے گزارا ہم کو
جب ہجومِ غمِ دنیا سے ہوئیں بند آنکھیں
ناز سے تیری "تجلی" نے "پکارا" ہم کو
چشمِ ساحل کو بھی تم موجۂ طوفاں سمجھے
ہم وہ سرکش کہ ہے طوفاں میں کنارا ہم کو
اپنے ساقی کے ہر اک جام میں ہے آبِ حیات
نگہِ "لطف" کا کافی ہے "سہارا" ہم کو

آل احمد سرور

No comments:

Post a Comment