Thursday, 16 July 2020

ہمارے ہاتھ میں جب کوئی جام آیا ہے

ہمارے ہاتھ میں جب کوئی جام آیا ہے
تو لب پہ کتنے ہی پیاسوں کا نام آیا ہے
کہاں کا نور یہاں رات ہو گئی گہری
مِرا چراغ اندھیروں کے کام آیا ہے
یہ کیا غضب ہے جو کل تک ستم رسیدہ تھے
ستم گروں میں اب ان کا بھی نام آیا ہے
تمام "عمر" کٹی "اس" کی "جستجو" کرتے
بڑے "دنوں" میں یہ طرزِ "کلام" آیا ہے
بڑھوں تو راکھ بنوں مڑ چلوں تو پتھرا جاؤں
سفر میں شوق کے "نازک" مقام آیا ہے
خبر بھی ہے مرے گلشن کے لالہ و گل کو
مِرا "لہو" بھی "بہاروں" کے کام آیا ہے
وہ سرپھرے جو نگہداریٔ جنوں میں رہے
سرور ان میں "ہمارا" بھی "نام" آیا ہے

آل احمد سرور

No comments:

Post a Comment