Thursday, 16 July 2020

اداس دل کو محبت کا آسرا دے گی

 اداس 'دل' کو 'محبت' کا آسرا دے گی 

وہ مجھ کو چھو کے مِرا حوصلہ بڑھا دے گی

ذرا سی 'بات' سہی اس کا 'دیکھنا'،۔ لیکن 

ذرا' سی بات 'مِری' نیند ہی 'اڑا' دے گی' 

وہ دم درود کی عادی ہے اور مجھے شک ہے

وہ اپنا 'پیار' مجھے 'گھول' کر 'پلا' دے گی

تم اس کی روشنی تکنے میں گم نہ ہو جانا

وہ ایک لَو ہے تمہیں آگ بھی لگا دے گی 

سبھی الارم گھڑی کے 'فضول' جائیں گے

کسی کے پاؤں کی جھانجھر مجھے جگا دے گی

میں جانتا ہوں وہ سڑیل مزاج ہے تحسین 

مگر وہ میری غزل سن کے مسکرا دے گی


یونس تحسین

No comments:

Post a Comment