دل کی دیوانہ طبیعت کو مصیبت نہ بنا
تجھ سے یارانہ ہے، یارانہ محبت نہ بنا
میں تجھے دل کی سناتا ہوں مجھے تُو دل کی
اس سہولت کو مِری جان اذیت نہ بنا
ہم کو لے دے کے تعلق ہی بچا ہے تیرا
اس کو مشکوک نہ کر باعثِ تہمت نہ بنا
ایک دیوار نے رشتوں کا تقدس توڑا
بھائی روکا تھا تجھے گھر میں یہ لعنت نہ بنا
نیند کو طاق پہ دھر، اور دِیا پہلو میں
گریۂ آخر شب میں کوئی دقت نہ بنا
بیٹیاں رزق میں برکت کا سبب ہوتی ہیں
گھر کی رحمت کو غلط سوچ سے زحمت نہ بنا
عکس کا ہونا ہے مشروط تِرے ہونے سے
خود کو پہچان مگر عکس کو حیرت نہ بنا
ہُو بہ ہُو اس کی اداؤں کی ادا لازم ہے
یار کی سنتِ مسعود کو بِدعت نہ بنا
اختلافات ہیں انسان کا خاصہ تحسین
بحث کرنی ہے تو کر، بحث کو نفرت نہ بنا
No comments:
Post a Comment