Saturday, 18 July 2020

خاک سے اٹھنا خاک میں سونا خاک کو بندہ بھول گیا

خاک سے اٹھنا خاک میں سونا خاک کو بندہ بھول گیا
دنیا کے دستور نرالے،۔ آپ سے رشتہ بھول گیا
جنگل جنگل جوگ میں تیرے پھرتے ہیں اک روگ لیے
تِرے ملن کی آس جگی ہے، دشت کا رستہ بھول گیا
ایک محبت راس ہے دل کو، ایک وفا انمول صنم
بھیس فقیروں والا بھر کے ذات کا صحرا بھول گیا
خواب میں جب سے دیکھا اس کو چین نہیں ہے آنکھوں میں
ساری رات مسلسل کاٹی خواب کا رستہ بھول گیا
شام ڈھلے اک پہلا تارا ہم سے ملنے آیا تھا
دور بدیس میں رہنے والا اپنا پرایا بھول گیا
ہر دھڑکن سے پیار کا امرت ہر اک لفظ میں اترا تھا
ساری عمر جو لکھا دل نے وہی وظیفہ بھول گیا
مالا جپتے جپتے گزری عمر کسی سنیاسی کی
منزل پاس جو آ پہنچی تو عشق صحیفہ بھول گیا

شائستہ مفتی

No comments:

Post a Comment