سنوار دن کی عبادت "دعا" کی رات پکڑ
ہے "برکتوں" کا "مہینہ" مکاشفات پکڑ
تجھے یہ کس نے زمیں پر خدا لگا دیا ہے
تُو سب کو چھوڑ، بس اپنی تجاوزات پکڑ
یہ لوگ بڑھتے چلے جا رہے ہیں جِدت میں
"ملا" نہ " ہاتھ" سبھی سے بغیر "دستانے"
تعلقات میں "لازم" ہے "احتیاط" پکڑ
تُو مجھ سے مل کہ کھلے تجھ پہ ساری سچائی
ادھر ادھر سے نہ یوں جھوٹے واقعات پکڑ
نہیں ہے راس تعلق تو "توڑ" دے جاذل
لگا یہاں پہ "انگوٹھا"، یہ "کاغذات" پکڑ
اطیب جاذل
No comments:
Post a Comment