کیا کیا نہ یوں تو ٹوٹی قیامت بھی خیر سے
دیوار و در ہنوز ہیں اور چھت بھی خیر سے
اس نے بھی "وجہِ" ترکِ "تعلق" بیاں نہ کی
مانگی نہیں تھی ہم نے وضاحت بھی خیر سے
ہم نے بھی اشک آنکھ سے ڈھلنے نہیں دیا
پھر کیا ہوا جو تم نے بھی دنیا "تیاگ" دی
تم نے تو کی نہیں ہے محبت بھی "خیر" سے
یہ شر پسند لوگ کیوں مانیں گے تیری بات
ان کو تو ہے نہیں کوئی نسبت بھی خیر سے
جاذل "کٹے" گا کس طرح "جیون پہاڑ" سا
بیٹھے ہو چھوڑ چھاڑ کے وحشت بھی خیر سے
اطیب جاذل
No comments:
Post a Comment