تنہا ہوئے تو خود سے ملاقات ہو گئی
جس کا گمان تک نہ تھا وہ بات ہو گئی
اتنی طویل رات تھی کل شب کہ صبحدم
بس ایک پَل کو دن ہوا، پھر رات ہو گئی
اب غیر کیا کہ ہم سے گریزاں ہے اپنا خون
کل بزمٍ آشنائی میں سب ایک سے لگے
دشمن؟ سجن؟ انا کو مِری مات ہو گئی
یادیں رفاقتوں کی رلانے پہ تُل گئیں
دل اس قدر بھر آیا کہ برسات ہو گئی
چھوٹی سی اک وبا نے بڑا کام کر دیا
ظاہر زمیں پہ بندے کی اوقات ہو گئی
روحی ہمارے دین میں مایوسی کفر ہے
سو "ہاتھ" اٹھے دعا کو مناجات ہو گئی
ریحانہ روحی
No comments:
Post a Comment