Friday, 17 July 2020

دکھایا عشق میں اعجاز ہم نے

دکھایا عشق میں اعجاز ہم نے 
نہ دی اس کو کبھی آواز ہم نے 
سفر آساں نہ تھا راہِ طلب کا
مگر پھر بھی کیا آغاز ہم نے 
محبت تو سبھی کرتے ہیں لیکن 
دیا ہے اک نیا "انداز" ہم نے
ریاکاری، فریب و مکر، دھوکہ
ہنر سیکھے نہیں یہ ناز ہم نے

ناز مظفرآبادی 

No comments:

Post a Comment