Thursday, 16 July 2020

خود کو اندر سے کہیں ڈھایا ہوا لگتا ہوں

بس اسی بات سے گھبرایا ہوا لگتا ہوں
خود کو اندر سے کہیں ڈھایا ہوا لگتا ہوں
تم نہیں جانتے ہجرت کے تقاضے کیا ہیں
گھر کا "مالک" ہوں مگر "آیا" ہوا لگتا ہوں
اس نے اک بار ہی تحریر کیا ہے مجھ کو
دیکھنے والوں کو "دہرایا" ہوا لگتا ہوں
تیرے قدموں کی طرف سیدھی جبیں ہوتی ہے
جھک کے چلتے ہوئے "اترایا" ہوا لگتا ہوں
ہاں تو پھر مان کوئی ہاتھ میرے سر پر ہے
یا "بتا" اب تجھے "گھبرایا" ہوا لگتا ہوں
اثر ہوتا ہی نہیں اس سے زیادہ مجھ پر
چار چھ روز ہی سمجھایا ہوا لگتا ہوں

دانش نقوی

No comments:

Post a Comment