مزاجِ یار کی ایسی کی تیسی
اور اس پندار کی ایسی کی تیسی
تِرے گیسو نشانِ تیرگی، اور
تِرے رخسار کی ایسی کی تیسی
نگاہِ ناز پہ سو بار تف ہو
غزل میں اب نئے مضمون لاؤ
گل و گلزار کی ایسی کی تیسی
جہاں پر جنسِ الفت بک رہی ہے
تِرے بازار کی ایسی کی تیسی
میں سچی بات کہنے جارہا ہوں
رسن کی، دار کی ایسی کی تیسی
امیرِ شہر کی شاہی پہ لعنت
بھرے دربار کی ایسی کی تیسی
افتخار حیدر
No comments:
Post a Comment