Thursday, 23 July 2020

آخری ہچکی

آخری ہچکی

( ابا کی پانچویں برسی پہ اپنے پانچ بھائیوں کے نام )

میں وہاں موجود تھا
اور وہ بہت بے چین تھا
اس کے چہرے پر بلا کا کرب تھا
آخری ہچکی سے پہلے میں ہی اس کے پاس تھا
میں اکیلا آپ سب کا دکھ اٹھانے کو وہاں موجود تھا

٭
آخری ہچکی کہ جس میں زندگی کی آخری امید تھی
آخری ہچکی میں سارے نامکمل اور ادھورے خواب تھے
ارمان تھے
وہ تمہارا منتظر تھا
نام لے لے کر تمہارا پوچھتا تھا بار بار
اف خدایا
آخری دم اور اس پر انتظار
پھر اچانک یوں ہوا
اس نے سارے خواب، سب ارمان اور ساری دعائیں
آپ سب کے نام پیغامات کی گٹھڑی مِرے سر پر دھری
بوجھ اتارا اور سکوں سے سو گیا
٭
اب یہ منظر ہے کہ پچھلے پانچ سالوں سے
میں وہ سب خواب اور ارماں اٹھائے دربدر ہوں
باری باری اور مسلسل آپ سب کے در بجاتا تھک گیا ہوں
تھک گیا ہوں یار
کچھ تو بوجھ اتارو
بھائی ہو

افتخار حیدر

No comments:

Post a Comment