Thursday, 16 July 2020

مرے شجر کو بھی اس حالت خزاں سے نکال

کوئی یقین دِلا، حالتِ گماں سے نکال
غمِ حیات کو بڑھتے ہوئے زیاں سے نکال
پھر اس کے بعد جہاں تو کہے گزاروں گا
بس ایک بار ذرا کرب جسم و جاں سے نکال
میں عین اپنے ہدف پر لگوں گا، شرط لگا
ذرا سا کھینچ مجھے اور پھر کماں سے نکال
میں اپنے جسم کے اندر نہ دفن ہو جاؤں
مجھے وجود کے گرتے ہوئے مکاں سے نکال
میں اک شعلۂ بدمست ہی سہی، لیکن
میں جل رہا ہوں مجھے میرے درمیاں سے نکال
بلا رہی ہے تجھے بھی ہوس کی شہزادی
تُو اپنے آپ کو اس لمحۂ رواں سے نکال
جسے بہشت میں آدم نے چکھ لیا تھا کبھی
میں کھا رہا ہوں وہی پھل مجھے یہاں سے نکال
اے ڈالیوں پر نئے پھل اگانے والی دعا
مرے شجر کو بھی اس حالتِ خزاں سے نکال

اطیب جاذل​

No comments:

Post a Comment