یہ رقص زندگی کا لہو میں دھمال ہے
چل جائے جو زمانہ قیامت کی چال ہے
کیوں راستے میں چھوڑ گئے، تھے جو ہمسفر
اپنی نظر سے الجھا ہوا اک سوال ہے
کہہ دیجئے وہ بات جو اخفا ہے اب تلک
آنکھوں میں آ کے ٹھیر گئی خواب کی تھکن
بوجھل ہے رات، چاند کی کرنوں کا جال ہے
اپنے اصول اپنے تھے، سودا نہ کر سکے
تم سے بچھڑ کے شہر میں قحط الرجال ہے
درویش ہے، پڑاؤ ہے جنگل کے آس پاس
کہتے ہیں لوگ اس کو بہت مالا مال ہے
شائستہ مفتی
No comments:
Post a Comment