Thursday, 16 July 2020

یہ رقص زندگی کا لہو میں دھمال ہے

یہ رقص زندگی کا لہو میں دھمال ہے
چل جائے جو زمانہ قیامت کی چال ہے
کیوں راستے میں چھوڑ گئے، تھے جو ہمسفر
اپنی نظر سے الجھا ہوا اک سوال ہے
کہہ دیجئے وہ بات جو اخفا ہے اب تلک
کیجے نہ کچھ خیال جو شیشے میں بال ہے
آنکھوں میں آ کے ٹھیر گئی خواب کی تھکن
بوجھل ہے رات، چاند کی کرنوں کا جال ہے
اپنے اصول اپنے تھے، سودا نہ کر سکے
تم سے بچھڑ کے شہر میں قحط الرجال ہے
درویش ہے، پڑاؤ ہے جنگل کے آس پاس
کہتے ہیں لوگ اس کو بہت مالا مال ہے

شائستہ مفتی

No comments:

Post a Comment