کیسے پھیلی خبر ہم نہیں جانتے
اور الجھی نظر، ہم نہیں جانتے
رات دہلیز پر آ کے تھم سی گئی
ہو گی غم کی سحر ہم نہیں جانتے
چہرہ ہے گل کی مانند نکھرا ہوا
دھڑکنیں کون ترتیب دینے لگا؟
اے دلِ بے خبر ہم نہیں جانتے
بہتا دریا بہا لے گیا ساتھ میں
کیسے لعل و گُہر، ہم نہیں جانتے
شائستہ مفتی
No comments:
Post a Comment