کیسے اور کیوں نے احتجاج کیا
دو ہی لفظوں نے احتجاج کیا
میرے بازو پہ سر رکھا اس نے
اور تکیوں نے احتجاج کیا
جب اسے درمیان چھوڑا گیا
مسئلہ کوئی بھی نہیں سمجھا
اور بہت سوں نے احتجاج کیا
سبز پتے سکوں سے ٹوٹ گئے
زرد پتوں نے "احتجاج" کیا
کھیل کھیلا ہے ایک بوڑھے نے
اور "بچوں" نے احتجاج کیا
وہ ملا بھی تو کچھ منٹ کے لیے
اور "گھنٹوں" نے احتجاج کیا
راز احتشام
No comments:
Post a Comment