خامشی متن ہے
زندگی نظم ہے
جس میں لفظوں کے کیکٹس اُگے ہر طرف
اور معنی میں دھوکے کا زہریلا رس
لفظ و معنی کے بیچ
خامشی ہے چھپی
خامشی بھید ہے
بھید نے سب ڈھکا
اس میں سب ہے چھپا
وہ خدا یا ہوا؟
اس میں حیرت بھری
اس میں معصومیت
اس میں غیبی صدا
اس میں جنت کے پھول
اس میں گردش کے پہیے کی گڑ گڑ کا شور
اس میں ناچے دھما دھم کی تانوں پہ مور
ہے یہی شاعری، باقی کاغذ کا بھور
قندیل بدر
No comments:
Post a Comment