Saturday, 18 July 2020

زندگی نظم ہے

خامشی متن ہے

زندگی نظم ہے
جس میں لفظوں کے کیکٹس اُگے ہر طرف
اور معنی میں دھوکے کا زہریلا رس
لفظ و معنی کے بیچ
خامشی ہے چھپی

خامشی بھید ہے
بھید نے سب ڈھکا
اس میں سب ہے چھپا
وہ خدا یا ہوا؟
اس میں حیرت بھری
اس میں معصومیت
اس میں غیبی صدا
اس میں جنت کے پھول
اس میں گردش کے پہیے کی گڑ گڑ کا شور
اس میں ناچے دھما دھم کی تانوں پہ مور
ہے یہی شاعری، باقی کاغذ کا بھور

قندیل بدر

No comments:

Post a Comment