بھید بھرا برگد
برگدوں کی شاخوں میں
کتنے بھید بستے ہیں
تم نے کیا نہیں دیکھا
ان کے بال نوچو تو
بین کرنے لگتی ہیں
ان کی چھال کھینچو تو
خون رِسنے لگتا ہے
جو کبھی نہیں تھمتا
برگدوں کے جنگل کا
میں بھی ایک برگد ہو ں
تم نے کیوں نہیں سوچا
قندیل بدر
No comments:
Post a Comment