Saturday, 18 July 2020

بھید بھرا برگد

بھید بھرا برگد

برگدوں کی شاخوں میں
کتنے بھید بستے ہیں
تم نے کیا نہیں دیکھا
ان کے بال نوچو تو
بین کرنے لگتی ہیں
چیختی ہی رہتی ہیں
ان کی چھال کھینچو تو
خون رِسنے لگتا ہے
جو کبھی نہیں تھمتا
برگدوں کے جنگل کا
میں بھی ایک برگد ہو ں
تم نے کیوں نہیں سوچا

قندیل بدر

No comments:

Post a Comment