اتنا گہرا سناٹا ہے
جیسے کوئی بول رہا ہے
اے انکار کے لہجے والے
میں نے تجھ سے کیا مانگا ہے
باہم موت کا وعدہ چھوڑو
کون کسی کے ساتھ جیا ہے
توڑنے والے کیا توڑے گا
تیرا میرا رشتہ کیا ہے
پیڑ تیمم کرنے کو ہیں
وقتِ نمازِ استسقأ ہے
کھلتے پھول اور کھیلتے بچے
دیکھ کے کتنا ڈر لگتا ہے
سارے جگ کی خیر ہو یا رب
کتنے زور سے دل دھڑکا ہے
دردوں نے تو زندہ رکھا
بے دردوں نے مار دیا ہے
کیسا کمسن درد ہے میرا
آدھی رات کو جاگ اٹھا ہے
یاد آتا ہے کم کم لیکن
یاد آئے تو دل دکھتا ہے
الف، لام اور میم نے مل کر
کیسا الم تخلیق کیا ہے
اے مجھ سے نہ ملنے والے
میں نے خود کو چھوڑ دیا ہے
اس نے کیا توقیر کمائی
جو رسوائی سے ڈرتا ہے
کون زیاں کا حاصل جانے
ساری عمر کا سرمایہ ہے
آتشدان کو تاپ کے دیکھو
باہر کیسی سرد ہوا ہے
گنتی جپنے والو! تم نے
تم نے خدا کو ایک کہا ہے
بوندیں پاؤں پڑ سکتی ہیں
بادل کس کے ساتھ رہا ہے
درد کی کوئی انت نہیں تو
صبر کا کیسا پیمانہ ہے
سید مبارک شاہ ہمدانی
No comments:
Post a Comment