Friday, 17 July 2020

جیسے کوئی بول رہا ہے

اتنا گہرا سناٹا ہے
جیسے کوئی بول رہا ہے
اے انکار کے لہجے والے
میں نے تجھ سے کیا مانگا ہے 
باہم موت کا وعدہ چھوڑو
کون کسی کے ساتھ جیا ہے

توڑنے والے کیا توڑے گا
تیرا میرا رشتہ کیا ہے
پیڑ تیمم کرنے کو ہیں
وقتِ نمازِ استسقأ ہے
کھلتے پھول اور کھیلتے بچے
دیکھ کے کتنا ڈر لگتا ہے
سارے جگ کی خیر ہو یا رب
کتنے زور سے دل دھڑکا ہے
دردوں نے تو زندہ رکھا
بے دردوں نے مار دیا ہے
کیسا کمسن درد ہے میرا
آدھی رات کو جاگ اٹھا ہے
یاد آتا ہے کم کم لیکن
یاد آئے تو دل دکھتا ہے
الف، لام اور میم نے مل کر
کیسا الم تخلیق کیا ہے
اے مجھ سے نہ ملنے والے
میں نے خود کو چھوڑ دیا ہے
اس نے کیا توقیر کمائی
جو رسوائی سے ڈرتا ہے
کون زیاں کا حاصل جانے
ساری عمر کا سرمایہ ہے
آتشدان کو تاپ کے دیکھو
باہر کیسی سرد ہوا ہے
گنتی جپنے والو! تم نے
تم نے خدا کو ایک کہا ہے
بوندیں پاؤں پڑ سکتی ہیں
بادل کس کے ساتھ رہا ہے
درد کی کوئی انت نہیں تو
صبر کا کیسا پیمانہ ہے

سید مبارک شاہ ہمدانی 

No comments:

Post a Comment