مصرف
کسی نے ان کا وجود دیکھا؟
نگاہ جن کا ہجوم تک بھی نہ دیکھ پائے
کسی نے ان کی صدا سنی ہے؟
جو شور بن کر بھی خامشی کی حدوں میں ٹھہرے
اگر یہ ہیں بھی
تو ان کے ہونے میں کیا رکھا ہے
کہ جن کی عمریں
ہماری ساعت کی سب سے چھوٹی اکائی سے بھی
بڑی نہیں ہیں
نہ ان کا کلچر، نہ کوئی مذہب
نہ فلسفے سے کوئی تعلق
نہ کوئی سائنس سے واسطہ ہے
مگر یہ اتنے ذرا سے پیکر
ذرا سی مدت میں
اپنے حصے کی ساری لذت کشید کر کے
تمام کلفت تمام کر کے
بقا کو نسلوں کے نام کر کے
یہیں پہ قصہ تمام کر کے
اب آرزوئے دوام کر کے بھی کیا کریں گے
حقیر پیکر
طويل عمروں کی رہگزر کے نشیب رخ پر
عظیم پیکر لڑھک رہے ہیں
اور ان کے حصے کی زندگانی پڑی ہوئی ہے
عظیم پیکر تو مطمئن ہیں
کہ زندہ رہنے کو جاودانی پڑی ہوئی ہے
تو عمرِ فانی میں کیا کریں گے؟
حقیر پیکر یہ سوچتے ہیں
جو اپنی عمریں نہ جی سکے ہیں
وہ جاودانی میں کیا کریں گے؟
سید مبارک شاہ ہمدانی
No comments:
Post a Comment