Saturday, 11 July 2020

جذبات سرد ہو گئے طوفان تھم گئے

جذبات "سرد" ہو گئے طوفان تھم گئے
اے دورِ ہجر اب کے تِرے ساتھ ہم گئے
کچھ اس ادا سے اس نے بلایا تھا بزم میں
جانا "نہ" چاہتے تھے مگر پھر بھی ہم گئے
مہلت نہ دی "اجل" نے فراعینِ دِقت کو
قسطوں میں جی رہے تھے مگر ایک دم گئے
وہ" ساتھ تھا، تو "سارا" زمانہ تھا "زیرِ" پا"
وہ کیا "گیا" کہ اپنے بھی "جاہ" و "حشم" گئے
ہر "چند" ایک "ہُو" کا "سمندر" تھا درمیاں
مقتل میں پھر بھی جانِ جہاں صرف ہم گئے
"ناصر نہیں ہے مجھ کو "شکستِ انا" کا "غم
خوش ہوں کسی کی آنکھ کے آنسو تو تھم گئے

ناصر زیدی

انا للہ و انا الیہ راجعون

No comments:

Post a Comment