Sunday, 12 July 2020

وقت کی بھینٹ چڑھے ہنسنے ہنسانے سے گئے

 وقت کی بھینٹ چڑھے ہنسنے ہنسانے سے گئے

ہائے کیا لوگ تھے جو ملنے ملانے سے گئے

ہائے کیا دن تھے کہ تکلیف تھی سانجھی اپنی

ہائے کیا دن ہیں کہ تکلیف بتانے سے گئے

ہائے یہ دشمنِ جاں جو کہ بغل گیر ہوئے

ہائے وہ دوست جو اب ہاتھ ملانے سے گئے

جانے والے انہی پیروں پہ پلٹ کر آ جا

کل اگر ہم تجھے آواز لگانے سے گئے

ہم نے اس شدت و معیار سے چاہا ہے تمہیں

تم اگر ہم سے گئے سمجھو زمانے سے گئے

یارِ من! توبہ ہے اِس مست نگاہی کا فسوں

دیکھنے والے تجھے ہوش میں آنے سے گئے

یہ بھی آفت ہے کہ اس دورِ ستم پرور میں

تیرے رنجیدہ، تجھے رنج بتانے سے گئے

لے گئی جان سے پیاروں کو اجل پہلو سے

اور کچھ پہلو بدلنے کے بہانے سے گئے

گریہ کر موہنے تحسین جگر کے ٹکڑے

گریہ ان کا جو کبھی لوٹ کے آنے سے گئے


یونس تحسین

No comments:

Post a Comment