وقت کی بھینٹ چڑھے ہنسنے ہنسانے سے گئے
ہائے کیا لوگ تھے جو ملنے ملانے سے گئے
ہائے کیا دن تھے کہ تکلیف تھی سانجھی اپنی
ہائے کیا دن ہیں کہ تکلیف بتانے سے گئے
ہائے یہ دشمنِ جاں جو کہ بغل گیر ہوئے
ہائے وہ دوست جو اب ہاتھ ملانے سے گئے
جانے والے انہی پیروں پہ پلٹ کر آ جا
کل اگر ہم تجھے آواز لگانے سے گئے
ہم نے اس شدت و معیار سے چاہا ہے تمہیں
تم اگر ہم سے گئے سمجھو زمانے سے گئے
یارِ من! توبہ ہے اِس مست نگاہی کا فسوں
دیکھنے والے تجھے ہوش میں آنے سے گئے
یہ بھی آفت ہے کہ اس دورِ ستم پرور میں
تیرے رنجیدہ، تجھے رنج بتانے سے گئے
لے گئی جان سے پیاروں کو اجل پہلو سے
اور کچھ پہلو بدلنے کے بہانے سے گئے
گریہ کر موہنے تحسین جگر کے ٹکڑے
گریہ ان کا جو کبھی لوٹ کے آنے سے گئے
یونس تحسین
No comments:
Post a Comment