نظم
تمہاری حسرت میں جی رہا ہوں
مگر یہ جینا بھی مرگ ہے اور مستقل ہے
او بے خبر! اپنا جینا مرنا تو سانس جیسی لطیف شے سے بندھا ہوا ہے
حیات ویسے بھی عارضی ہے
اور آدھا جیون میں جی چکا ہوں
فضول ہے سب
یہ دنیا داری مجھے نہ آئی، نہ آسکے گی
او بے خبر! عمر ڈھل رہی ہے
اور اب بھی دل میں تمہارے ملنے کی آرزو ہے
سو بے خبر! اتنا دھیان رکھنا
اگر تُو اب بھی نہیں ملے گا
تو سانس لینے کی رتّی زحمت نہیں کروں گا
یونس تحسین
No comments:
Post a Comment