Sunday, 12 July 2020

تمہاری حسرت میں جی رہا ہوں

 نظم


تمہاری حسرت میں جی رہا ہوں

مگر یہ جینا بھی مرگ ہے اور مستقل ہے

او بے خبر! اپنا جینا مرنا تو سانس جیسی لطیف شے سے بندھا ہوا ہے

حیات ویسے بھی عارضی ہے

اور آدھا جیون میں جی چکا ہوں

فضول ہے سب

یہ دنیا داری مجھے نہ آئی، نہ آسکے گی

او بے خبر! عمر ڈھل رہی ہے

اور اب بھی دل میں تمہارے ملنے کی آرزو ہے

سو بے خبر! اتنا دھیان رکھنا

اگر تُو اب بھی نہیں ملے گا

تو سانس لینے کی رتّی زحمت نہیں کروں گا


یونس تحسین

No comments:

Post a Comment